Monday, April 7, 2014

Comment - Imran Khan says Politics of Sindh has no Din & Iman

عمران خان نے کیا سندھ دیکھی ہے؟
سندھ کی سیاست کا ایمان
وینگس
مجھ سے کچھ برس پہلے کسی نے سوال پوچھا تھا کہ سندھ کو کسے دیکھا جا سکتا ہے؟ بظاہر سوال آسان سا تھا شاید مشکل لیکن میں جواب نہ دے سکی۔ میں نے کچھ دیر رکھ کے جواب دیا کے سندھ کو دیکھنے کے لیئے آپ کے دل میں درد اور عشق ہونا چاہئے۔
سندھ جو درد اور عشق کا میلاپ ہے۔ ہاں سندھ کو سمجھنے کے لیئے شاھ سائیں کی آنکھیں چاہئے جس نے سندھ کی معصومیت، پیار، قربانی دینا، سسئی کی طرح نگے پاؤں اپنے محبوب کی تلاش میں نکلنا، اور مارئی کی طرح بادشاھ کو بھی انکار کر دتی ہے جو اپنے کچے گھر اور اپنے لوگوں کو یاد کرتی ہے۔
سندھ کو سمجھنا ہے تو سندھ کے دل پہ ہاتھ رکھ کے دیکھو جس کے اندر درد اور دل میں پیار ہے۔ سندھ کو کسی نے دیکھا نہی ہے جو سندھ
 کے خلاف الفاظ استعمال کرتے ہیں، لیکن سندھ خاموش رہی ۔ سندھ کو الگ کرنے کے الفاظ استعمال ہوئے، لیکن سندھ نے کچھ نہی کہاں۔
کیوں کو سندھ کی سیاسی سمجھ ابھی بھی زندھ ہے وہ سمجھ تے ہیں کے سندھ کیا ہے! لیکن ہمارے پیارے پاکستان میں کچھ سیاستدان ایسے بھی ہیں جن کو سندھ کا علم نہی ۔ سندھ کو وہ اپنے پارٹی میمبرز کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ سندھ شاھ محمد قریشی کی جاگیر تو نہی ہے جو عمران خان نے سندھ کے لیئے کہا کہ "سندھ کی سیاست میں دین اور ایمان نہی۔ سندھ میں صرف مفاد پرستی والی سیاست ہو رہی ہے۔"  گر مسٹر خان صاحب پاکستان کے اقتداری  سیاست کی بات کرتے تو بات سمجھ میں آتی مگر سندھ کی بات کی ہے۔
سیاستدان آپس میں لفظون کی جنگ کرتے رہتے ہیں۔ ہم سمجھ تے ہیں کے یہ سیاست کا حصا ہے دو جواب ۔ لو جواب۔۔۔!!!
پر اس میں سندھ کو کیوں گھسیٹا گیا؟! عمران خان سندھ کے سیاسی دین اور ایمان کے بات کرتا ہے تو وہ سُن لئے کہ سندھ کا جمھوری ایمان ہی تھا جب سندھ نے آمر مشرف کے ریفرنڈم کو انکار کیا لیکن مسٹر خان کی طرح مشرف کے ریفرنڈم کو سپورٹ نہی کیا۔ سندھ کا سیاسی ایمان یہ تھا کے سندھ نے اک بار پھر پنڈی سے شھید بینظیر بھٹو کی لاش وصول کی، لیکن پھر بھی جمہوریت کے لئیے ووٹ دیا۔
شھید بینظیر بھٹو اور اس کے بھائیوں نے  آمریت کے خلاف لڑے لیکن سمجھوتا نہی کیا۔ سندھ جو ہر آمریت کے خلاف لڑی ہے۔ سندھ کے کاندھوں پہ بہت سے جنازے ہیں۔
عمران خان کو شاید سندھ کے سیاست کا پتا نہی کہ سندھ کا پاکستان کی سیاست میں کیا کردار ہے۔ عمران خان اپنے اندر جھاتی پاکر دیکھنے کا کشٹ اُٹھائینگے کہ ان کے اپنے پارٹی میں کہا تھا کہ وہ پارٹی بدلنے والوں کو نہی لیئنے گے۔ لیکن ان کی پارٹی میں سارے کے سارے  لیڈر دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے ہیں۔ سیاست میں جملوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اس لیئے بات وہ کرو جس پر کل آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
عمران خان سندھ میں مفاد پرستی کی سیاست کی بات کی ہے۔ کبھی عمران خان نے ماما قدیر بلوچ کی لانگ مارچ  پہ  کچھ کہاں؟ لیکن سندھ نے ماما قدیر بلوچ کو ہر جگہہ ویلکم کیا۔ جب کے مسٹر عمران خان، طالبان کے لیئے پریشان رہتے ہیں اتنا تو خود طالبان بھی اپنے لیئے پریشان نہی ہوتے ہونگے جتنا عمران خان ہے۔
سندھ کی سیاست کا کو دین و ایمان نہی! عمران خان نے سندھ کو دیکھا بھی ہے کہ سندھ میں کتنے لوگوں نے سیاست کی راہ میں اپنی زندگی کی قربانیاں دی ہے۔ آج عمران خان گر خیبرپختونخواہ کے اقتدار میں بھیٹا ہے تو یے جمہوریت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانی سے آئی ہے۔ اس ملک میں آمریت کو للکار سندھ دھرتی سے ہوئی ہے۔
اور عمران خان سندھ کو کہے رہے ہیں کہ سندھ کی سیاست کا کوئی دین و ایمان نہی۔ کچھ لوگوں کو عمران خان کے الفاظ غیر اخلاقی نا لگے لیکن عمران خان نے سندھ کی سیاست پہ غیر اخلاقی الفاظ استعمال کئیے ہیں۔
ہر لفظ کی اہمیت ہوتی ہے اور ہر لفظ اپنے آپ میں وزن رکھتا ہے۔ ھر وقت سندھ کے خلاف غیر اخلاقی الفاظ استعمال کیئے جاتے ہیں۔

سندھ کی سیاست کتنی درد سے بھری پڑی ہے جس نے اپنے کاندھوں پہ اپنے لیڈرز کی لاشیں اوٹھائی ہو جو ماتم میں ہو ان کو کہتے ہو کے تم کیا جانو درد کیا ہے؟ ماتم والوں سے کہتے ہو درد کیا ہے۔۔۔! اور عمران خان سندھ کی سیاست پہ کہتا ہے دین و ایمان نہی۔۔۔لیکن سندھ نے نہی کہا کے عمران خان تم کہتے ہوں دین و ایمان کی بات!!! 

1 comment:

  1. Dear veengas, These pakistani politicians like imran khan all are on the Payroll of ISI don't expacrt any possitive attitude from them. Have any one condemned the murder of Sirae Qurban, Rooplo, Bsshir Qureshi and Maqsood Qureshi. No one of them came for codolence. Becz they are agents of bruttal Army of Pakistan. Why they are silent on baloch genocide.

    ReplyDelete